دینِ اسلام سے مسلمانوں کی روگردانی
اسباب، اثرات اور حل
شرعی اور سائنسی تناظر میں ایک تحقیقی جائزہ
تمہید
اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطرتِ سلیمہ پر پیدا فرمایا اور اس کی رہنمائی کیلئے انبیاءِ کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ دینِ اسلام انسانیت کیلئے اللہ تعالیٰ کا آخری اور مکمل نظامِ حیات ہے، جو عبادات، اخلاق، معیشت، معاشرت، سیاست اور روحانیت سمیت زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج امتِ مسلمہ کی ایک بڑی تعداد عملی طور پر دین سے دور ہوتی جارہی ہے۔ عبادات میں غفلت، اخلاقی انحطاط، مادہ پرستی، ذہنی بے چینی اور مغربی تہذیب کی اندھی تقلید اس دوری کی واضح علامات ہیں۔
یہ مسئلہ صرف مذہبی نہیں بلکہ نفسیاتی، سماجی اور تہذیبی بحران بھی بن چکا ہے۔ جدید سائنسی تحقیقات بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہیں کہ روحانیت سے دوری انسان کو ذہنی اضطراب، بے مقصدیت اور اخلاقی بحران کی طرف لے جاتی ہے۔
1. دین سے روگردانی کا مفہوم
دین سے روگردانی کا مطلب صرف نماز یا عبادات چھوڑ دینا نہیں بلکہ:
- اسلامی تعلیمات سے بے رغبتی
- شریعت کو زندگی سے الگ سمجھنا
- اسلامی اقدار سے دوری
- مغربی افکار کو ترجیح دینا
- دین کو فرسودہ یا غیر ضروری سمجھنا
یہ تمام رویے دین سے عملی و فکری انحراف کی صورتیں ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا
“اور جو میرے ذکر سے روگردانی کرے گا تو اس کیلئے تنگ زندگی ہوگی۔”( سورۃ طہٰ: 124)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دین سے دوری انسان کو روحانی اور نفسیاتی بے سکونی میں مبتلا کردیتی ہے۔
2. دینی تربیت کا فقدان
اسلامی تربیت انسان کی شخصیت سازی کی بنیاد ہے۔ جب گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرے میں دینی ماحول کمزور ہوجائے تو نئی نسل دین سے دور ہونے لگتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔( صحیح بخاری)
یہ حدیث اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ ماحول اور تربیت انسان کی فکری تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
سائنسی تناظر
ماہرینِ نفسیات کے مطابق ابتدائی بچپن کی تربیت انسان کے عقائد، اخلاق اور شخصیت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ Harvard University کی تحقیقات کے مطابق خاندانی اقدار اور روحانی تربیت نوجوانوں میں ذہنی استحکام اور اخلاقی مضبوطی پیدا کرتی ہے۔
3. مادہ پرستی اور دنیا کی محبت
آج انسان کی کامیابی کو دولت، شہرت اور ظاہری آسائش سے جوڑا جارہا ہے۔ نتیجتاً آخرت، عبادت اور روحانی سکون پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
«بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا
سائنسی حقیقت
جدید نفسیاتی مطالعات کے مطابق مادہ پرستی Depression، Anxiety اور احساسِ محرومی میں اضافہ کرتی ہے۔ Journal of Positive Psychology کی کئی تحقیقات میں ثابت کیا گیا کہ روحانیت اور عبادت انسان کو ذہنی سکون اور Purpose of Life عطا کرتی ہے۔
4. سوشل میڈیا اور فکری یلغار
سوشل میڈیا نے نوجوان نسل کی فکر، ترجیحات اور طرزِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ فحاشی، الحاد، بے حیائی اور غیر اسلامی ثقافت مسلسل ذہنوں پر اثر انداز ہورہی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا(سورۃ الإسراء: 36)
سائنسی تحقیق
ماہرین کے مطابق Social Media Addiction نوجوانوں میں:
- Anxiety
- Loneliness
- Attention Disorder
- Moral Desensitization
کا سبب بن رہی ہے۔
Oxford اور Stanford کی تحقیقات میں Excessive Screen Time کو روحانی و ذہنی کمزوری سے جوڑا گیا ہے۔
5. دین کو مشکل سمجھنا
بعض لوگ دین کو صرف سختیوں اور پابندیوں کا مجموعہ سمجھتے ہیں، حالانکہ اسلام فطرت اور آسانی کا دین ہے۔
قرآن میں ہے:
«يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ(سورۃ البقرۃ: 185)»)
«“دین آسان ہے۔( صحیح بخاری)نبی ﷺ نے فرمایا:
جب دین کو سخت انداز میں پیش کیا جائے تو نوجوانوں میں Religious Burnout پیدا ہوتا ہے، جبکہ محبت، حکمت اور تدریج انسان کو دین کے قریب لاتی ہے۔
6. عملی نمونوں کی کمی
آج مسلمان خود معاملات، اخلاق، دیانت اور عدل میں اسلام کی حقیقی تصویر پیش نہیں کررہے، جس سے نئی نسل بدظن ہورہی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی زندگی خود سب سے بڑی دعوت تھی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
«لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ(سورۃ الأحزاب: 21)
سائنسی زاویہ
Behavioral Psychology کے مطابق انسان الفاظ سے زیادہ عملی کردار سے متاثر ہوتا ہے۔
7 الحاد اور فکری شکوک
جدید دور میں الحاد، سیکولرزم اور لبرل افکار نوجوانوں کو متاثر کررہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر اسلام کے خلاف شبہات پھیلائے جارہے ہیں۔
شرعی جواب
اسلام عقل، علم اور تحقیق کی دعوت دیتا ہے۔
قرآن بار بار فرماتا ہے
«أَفَلَا تَعْقِلُونَ
“کیا تم عقل نہیں رکھتے؟”»
سائنسی حقیقت
بہت سے سائنسدان جیسے:
- – Albert Einstein
- – Max Planck
- – Francis Collins
کائنات میں Divine Order کے قائل تھے۔
جدید Cosmology بھی کائنات کے منظم نظام کو کسی عظیم خالق کی نشانی قرار دیتی ہے۔
8. روحانی خلا اور ذہنی بے سکونی
دین سے دوری انسان کے دل میں ایک روحانی خلا پیدا کردیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ(سورۃ الرعد: 28)
سائنسی مشاہدہ
Mindfulness، Prayer اور Spiritual Practices ذہنی سکون، Stress Reduction اور Emotional Stability میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
American Psychological Association کی رپورٹس کے مطابق مذہبی وابستگی انسان میں امید، صبر اور Resilience پیدا کرتی ہے۔
9. حل اور اصلاحی تدابیر
. اسلامی تربیت
گھروں میں نماز، قرآن اور اسلامی ماحول کو فروغ دیا جائے۔
2. نوجوانوں سے حکمت کے ساتھ مکالمہ
سختی کے بجائے محبت اور دلیل کے ساتھ رہنمائی کی جائے۔
3. سوشل میڈیا کا مثبت استعمال
دعوت، اصلاح اور دینی تعلیم کیلئے جدید ذرائع استعمال کئے جائیں۔
4. علماء اور نوجوانوں کا تعلق
اعتماد، احترام اور مکالمے کا ماحول پیدا کیا جائے۔
5. دین کو آسان انداز میں پیش کرنا
اسلام کی رحمت، اعتدال اور خوبصورتی کو اجاگر کیا جائے۔
اختتامیہ
دینِ اسلام سے دوری صرف مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی بحران ہے۔
جب انسان اللہ سے دور ہوتا ہے تو سکون، مقصدِ حیات اور اخلاقی استحکام بھی کھو دیتا ہے۔
اسلام انسان کو:
- روحانی سکون
- اخلاقی بلندی
- ذہنی استحکام
- خاندانی مضبوطی
- اور حقیقی کامیابی
عطا کرتا ہے۔
آج امتِ مسلمہ کو صرف معلومات نہیں بلکہ تربیت، حکمت، کردار اور اللہ سے تعلق کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نئی نسل کو محبت، علم اور حکمت کے ساتھ دین سے جوڑ دیں تو ایک بار پھر امت اپنی کھوئی ہوئی عظمت حاصل کرسکتی ہے۔
مراجع و مصادر
- القرآن الكريم
- صحيح البخاري
- صحيح مسلم
- جامع الترمذي
- Harvard Research on Spiritual Development
- Journal of Positive Psychology
- American Psychological Association Reports
- Oxford University Digital Behavior Studies
- Stanford Research on Social Media Effects
