کسی وارث کا نا قابل ِتقسیم گھر کی تقسیم کا مطالبہ کرنا

90193تقسیم جائیداد کے مسائل متفرّق مسائل

سوال

میرے والد صاحب کا انتقال سن 2001ء میں ہوا، اور میری والدہ کا انتقال 2020ء میں ہوا۔ والد کے ورثہ  میں دو بیٹے (میں اور میرا بڑا بھائی) تھے۔ میرے والد نے ایک بچی کو پالا تھا جو کہ "منہ بولی بہن” کے طور پر ہمارے ساتھ رہی، لیکن ان کا ہم سے کوئی نسبی (خونی) یا رضاعی تعلق نہیں ہے۔ ان کی شادی کو بھی تقریباً 35 سال ہو چکے ہیں۔ گزشتہ سال میرے بڑے بھائی کا انتقال ہو گیاتھا، جن کے چار بچےہیں اور بالغ ہیں (عمریں 20 سے 30 سال کے درمیان ہیں)۔ اب جب میں نے وراثت (والد کے گھر) کی تقسیم کا مطالبہ کیا تو درج ذیل دو باتیں  سامنے آئی ہیں :  منہ بولی بہن کا معاملہ: میری اس منہ بولی بہن نے حال ہی میں (جنوری 2026ء میں) نادرا کے ریکارڈ میں اپنا نام میرے والد کے نام کے ساتھ بطورِ بیٹی درج کروا لیا ہے تاکہ وہ وراثت میں حصہ دار بن سکیں۔ حالانکہ والد نے زندگی میں انہیں کچھ لکھ کر نہیں دیا تھا۔  بھائی کی اولاد کا موقف: میرے مرحوم بھائی کے بچے گھر کی تقسیم سے انکار کر رہے ہیں اور "یتیم” ہونے کا عذر پیش کر رہے ہیں کہ ہمارے پاس اس گھر کے علاوہ کچھ نہیں، لہٰذا گھر تقسیم نہ کیا جائے۔ براہِ کرم درج ذیل سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں: کیا شرعی طور پر ایسی "منہ بولی بہن” کا وراثت میں کوئی حصہ ہے؟ اور کیا نادرا میں اپنا غلط نسب درج کروانا شرعاً جائز ہے؟ کیا والد کے ترکے (گھر) میں میرا شرعی حصہ مانگنا "ظلم” ہے؟ جبکہ بھائی کے بچے بالغ ہیں اور وہ تقسیم میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اگر گھر تقسیم کے قابل نہ ہو، تو شرعی طور پر اس کی تقسیم کا کیا طریقہ کار ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعتِ مطہرہ میں منہ بولی اولاد کے حقوق حقیقی اولاد کی طرح نہیں ہیں، انہیں منہ بولے والدین کی وراثت میں حصہ نہیں ملتا۔ ان کا حصہ ان کے حقیقی والدین اور رشتہ داروں کے ترکے میں شرعی اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔ اس لیے آپ کی منہ بولی بہن کا نادرا  کے ریکارڈ میں خود کو آپ کے والد کی بیٹی لکھوانا یا وراثت کا مطالبہ کرنا شرعا جائز نہیں۔
 ورثہ میں سے کسی وارث کا گھر کی تقسیم کا مطالبہ کرنا درست ہے۔  البتہ اگر گھر قابلِ تقسیم نہیں ( یعنی گھر بہت چھوٹا ہو یا ایک ہی کمرے پر مشتمل ہو)   تو تمام ورثہ کو چاہیے کہ باہمی رضامندی سے مکان کی قیمت مقرر کرکے اس کے مطابق  ہر فریق کو اس کا حصہ دیں۔ ورثہ میں سے کوئی فرد بھی یہ گھر خرید سکتا ہے اور کسی دوسرے آدمی کو بھی  فروخت کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر آپ کی لازمی ضرورت ہے، تو گھر بیچنے کا مطالبہ درست ہے۔ اگر لازمی ضرورت نہیں، تو  جس حد تک بھتیجوں کی رعایت ممکن ہو، کرنی چاہیےتاکہ وہ اس عرصے میں اپنے لیے کوئی مناسب بندوبست کرلیں۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (6/ 2485):
عن سعد رضي الله عنه قال:سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: (من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام). فذكرته لأبي بكرة فقال: وأنا سمعته أذناي ووعاه قلبي من رسول الله صلى الله عليه وسلم.
رد المحتار   ط:  الحلبي (6/ 261):
(والحمام) والبئر والرحى والكتب وكل ما في قسمه ضرر (إلا برضاهم) لما مر.
(قوله:  والحمام والبئر والرحى) ينبغي تقييده بما إذا كان صغيرا  لا يمكن لكل من الشريكين الانتفاع به…في خزانة الفتاوى: لا يقسم الحمام والحائط والبيت الصغير إذا كان بحال لو قسم لا يبقى لكل موضع يعمل فيه.
 (قوله:  وكل ما في قسمه ضرر) فلا يقسم ثوب واحد ؛ لاشتمال القسمة على الضرر؛ إذ لا تتحقق إلا بالقطع هداية، لأن فيه إتلاف جزء عناية، ولا يقسم الطريق لو فيه ضرر بزازية (قوله:  لما مر) من قوله : لئلا يعود على موضوعه بالنقض وهو علة لعدم القسمة .
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 19):
(وإما) أن يكون فيه ضرر بأحدهما نفع في حق الآخر، فإن كان في تبعيضه ضرر بكل واحد منهما ، فلا تجوز قسمة الجبر فيه، وذلك نحو اللؤلؤة الواحدة والياقوتة …والحائط والحمام والبيت الصغير والحانوت الصغير والرحى والفرس والجمل والبقرة والشاة؛ لأن القسمة في هذه الأشياء قسمة إضرار بالشريكين جميعا، والقاضي لا يملك الجبر على الإضرار.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 172):
(وإن تضرر الكل لم يقسم إلا برضاهم) وذلك كما لو طلبوا قسمة البئر والرحى والحائط والحمام؛ لأن القسمة لتكميل المنفعة، وفي قسمة هذا تفويت، فيعود على موضعه بالنقص؛ ولأن الطالب للقسمة متعنت، ويريد إدخال الضرر على غيره، فلا يجيبه الحاكم إلى ذلك؛ لأنه اشتغال بما لا يفيد بل بما يضر، ويجوز بالتراضي؛ لأن الحق لهم، وهم أعرف بحاجتهم.
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
9/ذو القعدہ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب محمد جمال بن جان ولی خان مفتیان فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب